7 اگست 2012 - 19:30

قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی 24 ویں برسی کے موقع پر تعزیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام قائد شہید کی افکار کو زندہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ سید ہاشم موسوی امام جمعہ کوئٹہ کے زیر سرپرستی گزشتہ شب مسجد و امام بارگاہ ہزارہنیچاری میں قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے 24 ویں برسی کی مناسبت سے ایک تعزیتی جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ جس میں مہانان گرامی مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی، پرنسپل جامعہ امام صادق علامہ محمد جمعہ اسدی، علامہ ولایت حسین جعفری اور ایران سے آئے ہوئے مہمان تواشی خوانوں سمیت دیگر علماء اور مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلسے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا، کہ قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے پاکستان میں آباد ملت تشیع پر بہت زیادہ احسانات ہے۔ الہیٰ فرامین کے مطابق انسان کو اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنا فرض ہے۔ لہٰذا ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے، کہ اس عالم بزگوار کی یاد جب زندہ ہے یاد کو زندہ رکھیں چاہے وہ برسی کے مناسبت سے ہو یا کسی اور مناسبت سے ۔ کیونکہ قرآنی آیت جس کا ترجمہ ہے ‘ مردوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ اپنا عہد سچ کر دکھایا ان میں سے کچھ نے اپنا کا م پورا کرلیا اور کچھ منتظر ہیں اور وہ تبدیل نہ ہوئے’کا مصداق پاکستان میں اپنے زمانے میں قائد شہید علامہ عارف حسین  الحسینی کا شخصیت تھا۔ جو سراپا بندگی خدا میں غرق تھا۔ راتوں کو دعاء و مناجات اور آنکھ پر نم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتا اور دن کو ملت تشیع پاکستان کے خدمت مردانہ وار مگن رہتا۔ جس کی وجہ سے ملت تشیع پاکستان کی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرت نہیں تھی۔ ملت تشیع قائد شہید کے دور میں سر بلند اور سرافراز کی زندگی گزار رہا تھا۔مگر دشمن نے ہم سے پہلے اس کی شخصیت کو پہچان لیا اور ان کو ہم سے جدا کردیا۔ جس کی وجہ آج ملت تشیع قائد شہید کے سایہ سے محروم ہوکر یتمی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ قائد شہید امام خمینی کے افکار کا مثالی نمونہ ہے۔ جس کی شہادت کے موقع پر امام خمینی  نے فرمایا کہ قائد شہید خوش بخت ہوگیا۔ یقیناً قائد شہید خوش بخت ہوگیا لیکن ہم خدا کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت سے محروم ہوگئے۔ کیونکہ بعض مواقع پر ہم سے بعض نے قائد شہید کا ساتھ نہیں دیا اور ان کے دل کو خون کیا۔ جس کی وجہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمت ہم سے واپس لے لی۔جلسے میں مہمان ایرانی تواشی خوانوں بھی اپنے تواشی خوانی سے رونق بخشی۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد شہید  کے جانے کے بعد ہمیں احساس یتمی ہوا۔ قائد شہید پاکستان میں نائب امام خمینیتھا اور افکار امام خمینی کا پابند تھا۔ قائد شہید عالمی دہشت گرد امریکہ کو اصلیت کو بے نقاب کیا۔ اور امریکہ سامراج کے خلاف بھر پور اور منظم انداز میں آواز بلند کیا۔ جلسے جامعہ امام صادق کے پرنسپل علامہ جمعہ اسدی، شیعہ علماء کونسل کے نائب صوبائی صدر علامہ ولایت حسین جعفری و دیگر مقررین نے بھی خطاب کیے۔انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی افکار کو زندہ رکھ کر اپنی زندگی کو کردار قائد شہید کے مطابق گزارنا وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا، کہ انتہائی مشکل وقتوں میں جب بہت سے سار ے علماء و غیر علماء نے امام خمینی کا ساتھ چھوڑ دیا لیکن شہید قائد نے امام خمینی  کا ساتھ نہیں چھوڑا اور کہا کہ میرا سب کچھ ولایت فقہ ہے۔ جس کے لیے اپنی ساری مال و دولت اپنی اہل و عیال اور اپنی جان کو قربان کرنے کیلئے تیار ہوں جس کو قائد شہید نے سچ کر دیکھایا اور ہم بھی خون شہید عارف حسین  سے عہد کرتے ہیں کہ ہم قائد شہید  کاپیروی کرینگے۔

...........

/110